بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے رونے کی وجہ سے تراویح چھوڑنا

سوال

گھر کے کاموں یا بچوں کے تنگ کرنے یا رونے کی وجہ سے اگر تراویح چھوڑ دیں یا آدھی پڑھیں، مثلاً آٹھ رکعات یا بارہ رکعات تو کیا اس کا گناہ ہوگا؟

جواب

شیر خوار بچے یا بہت چھوٹے بچے جو خود کو سنبھال نہیں سکتے، ان کے رونے یا ناقابلِ برداشت حد تک تنگ کرنے کی صورت میں اگر کبھی  تراویح کی نماز چھوٹ جائے تو اس  مجبوری کی وجہ سے امید ہے ترکِ سنت کا گناہ نہ ہوگا ، البتہ  اس کے ترک کرنے کی عادت بنالینا گناہ ہے،یہی حکم آدھی تراویح پڑھنے کا بھی ہے۔

معمول کے گھر کے کاموں کی وجہ سے تراویح کی نماز چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200071
تاریخ22-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں