بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی پر بینک کے ٹیکس کا بھی مطالبہ کرنا

سوال

ایک شخص نےایک لاکھ روپیہ قرضہ مانگا قرض دینے والے نے کہا کہ دو دن میں پچاس پچاس ہزار آپ کو دوں گا تاکہ  بینک میں ٹیکس نہ کٹے قرض مانگنے والے نے کہا کہ مجھے فی الفور ایک لاکھ کی ضرورت ہے تو قرض دینے والے نے ایک لاکھ بینک سے ایک ساتھ نکلوائے جس پر چھ سو روپے قرض دینے والے کا ٹیکس کٹا اب قرض کی واپسی پر قرض دینے والاایک لاکھ چھ سو روپے کامطالبہ کرتا ہے تو کیا اسے اضافی چھ سو کے مطالبہ کا حق ہے ؟

جواب

چوں کہ قرض لینے والے نے ایک لاکھ روپے وصول کیے تھے؛ لہذا اس کے ذمہ ایک لاکھ روپے ہی ادا کرنا لازم ہے اور قرض دینے والا اضافی چھ سو روپے کا مطالبہ نہیں کرسکتا، یہ اضافی رقم اگر  مطالبے کے ساتھ وصول کی جائے تو سود کے حکم  میں ہوگی اور اضافی رقم کا لینا جائز نہیں ہوگا۔  تاہم اگر  قرض دیتے وقت اضافے کی شرط نہیں لگائی گئی اور مقروض  اپنی خوشی سے قرض کی ادئیگی کے وقت کچھ اضافہ کے ساتھ  قرض کی رقم لوٹائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200019
تاریخ20-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں