جمع شدہ رقم کی زکات
سوال
ایک بندہ ہر ماہ تقریباً 30 ہزار روپے جمع کرتا ہے ، ابھی ایک سال ہو گیا ہو اور اس کے پاس ڈھائی لاکھ روپے جمع ہو چکے ہوں ، تو یہ اب اس پر زکات کس طرح دے گا ،جب کہ سال گزرے رقم کی مقدار ان میں سے شاید 60 ہزار روپے تک ہوں ؟
جواب
مذکورہ شخص کے پاس جب پہلی مرتبہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر رقم آئی تو اس وقت وہ صاحبِ نصاب بن چکا تھا، اس وقت سے اس کا سال شروع ہوچکا تھا، اس کے بعد اس کے پاس جو رقم آئی ہے اس کے لیے علیحدہ سال گزرنا ضروری نہیں تھا ، بلکہ گزشتہ رقم کے ساتھ مل کر اس کا بھی سال پورا ہوگا۔سال پورا ہونے پر جتنی رقم پاس موجود ہو اس کا اڑھائی فیصد بطورِ زکات ادا کرنا واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

