بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح چھوڑ دینے کا حکم

سوال

 تراویح نہ پڑھنے میں گناہ ہے  کہ نہیں؟

جواب

تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کو مستقل طور پر یا سستی اور غفلت کی وجہ سے چھوڑ دینا باعثِ گناہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 43)
''(التراويح سنة) مؤكدة؛ لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعاً۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 52)

''وفي التجنيس والنوازل والمحيط: رجل ترك سنن الصلوات الخمس إن لم ير السنن حقاً فقد كفر؛لأنه ترك استخفافاً، وإن رأى حقاً، منهم من قال: لا يأثم، والصحيح: أنه يأثم؛ لأنه جاء الوعيد بالترك'' اهـ.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200009
تاریخ20-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں