بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان میں دوا ڈالنے سے روزے کا حکم

سوال

ہم نے تو سنا ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔مگر دارالعلوم کراچی کا جدید فتوی ابھی آیا ہے کہ کان میں دوا ڈالنامفسدِ صوم نہیں ہے۔

جواب

روزے کے دوران  کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، ہماری جامعہ کا فتوی اب بھی یہی ہے، نیز کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ اسی طرح لکھا ہے۔ چناں چہ ''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:

الفتاوى الهندية (1/ 204)

''ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهناً أفطر، ولا كفارة عليه، هكذا في الهداية''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909200003
تاریخ20-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں