بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو اپنی بہن سے بات کرنے سے روکنے کا حکم

سوال

شوہر بیوی کو اس کی بہن سے ملنے سے یا بات کرنے سے روک سکتا ہے؟ میرا شوہر مجھے میری بہن سے بات کرنے سے روکتاہے، اور کہتا ہے کہ اگر تم نے بات کی تو طلاق دے دوں گا، اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

شوہر کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک ہفتہ میں ایک مرتبہ اپنے والدین سے ملنے کی اجازت دے اور والدین کے علاوہ دیگر محارم سے سال میں ایک مرتبہ ملاقات کرنے کی اجازت دے، لیکن اگر بیوی اپنے رشتہ داروں سے صرف بات کرنا چاہے تو بات کرنے  سے منع نہیں کر سکتا، اگر آپ کے شوہر آپ کو بہن سے بات کرنے سے منع کرتے ہیں تو اُن کا یہ فعل درست نہیں، ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ اگر اس بات چیت سے شوہر کو فتنوں کا اندیشہ ہو تو شوہر اس سے بھی روکنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن بات کرنے کے نتیجے میں طلاق دینا یا اس طرح کے الفاظ کہنا مناسب نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201168
تاریخ19-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں