بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے بجلی کا میٹر لگوادینا

سوال

زکاۃ کی رقم سے کسی مستحق کے گھر بجلی کا میٹر لگایا جاسکتا ہے؟

جواب

 زکاۃ  ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ  اسے کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے،اس لیے رفاہی کاموں،شفاخانوں اور تعمیراتی کاموں  وغیرہ پر زکاۃ کی رقم نہیں لگائی جاسکتی ؛ کیوں کہ اس میں تملیک نہیں پائی جاتی، لہذا غریب کے گھر بجلی کا میٹر لگادینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ آپ مستحقِ زکاۃ شخص کو مالک بناکر رقم دے دیں، اور پھر وہ خود اپنے گھر کا میٹر لگالے تو یہ جائز ہے۔

'' فتاوی عالمگیری'' میں ہے:

'' لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين''۔ (1/ 188،  کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ط: رشیدیہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201151
تاریخ19-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں