مقروض پر زکات واجب ہے یا نہیں؟
سوال
اگر قرض ڈیڑھ لاکھ روپے ہو اور اور سونا 80 ہزار تک کا ہو تو ایسی صورت میں زکات کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر کسی شخص کے پاس اسی ہزار روپے مالیت کا سونا ہو اور وہ ڈیڑھ لاکھ کا مقروض ہو تو اگر اس شخص کے پاس مذکورہ سونے کے علاوہ چاندی، کیش یا مالِ تجارت میں سے اتنا مال نہیں ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد اس کے پاس نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )کے بقدر بچ جائے تو ایسے شخص پر زکات فرض نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908201140
تاریخ19-05-2018

