بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کتنی عمر میں فرض ہوتا ہے؟

سوال

روزہ کتنی عمرمیں  فرض ہو جاتا ہے؟

 

جواب

نماز اور روزہ دونوں بلوغت  کے بعد  فرض ہوجاتے ہیں۔بلوغت یہ ہےکہ لڑکے کو احتلام یا انزال ہوجائے اور لڑکی کو حیض آجائے یا وہ حاملہ ہوجائے،اگرپندرہ سال سے کم عمر میں  ان علامات میں سے کوئی علامت بھی ظاہر ہوجائے تو نماز ، روزہ فرض ہوجائیں گے، ورنہ  پندرہ سال کی عمر میں دونوں بالغ سمجھیں جائیں گے،اور نماز پڑھنا،روزے رکھنافرض ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201126
تاریخ19-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں