کمیٹی کی رقم پر زکاۃ کا حکم
سوال
کمیٹی کی رقم پر زکاۃ ہے یا نہیں؟ ازرائے کرم راہ نمائی فرمائیں!
جواب
کمیٹی میں جتنی رقم(قسطیں) آدمی جمع کرواچکاہے اگر وہ رقم تنہایادوسرے اموال کے ساتھ مل کر زکاۃ کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے تو اس رقم کی زکاۃ ادا کی جائے گی، مثلاً ایک شخص کمیٹی میں بیس ہزار روپے بھر چکاہے اور وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو زکاۃ اداکرتے وقت بیس ہزار کی رقم کو بھی شامل کرکے زکاۃ ادا کرے گا،اور اگر آدمی پہلے سے صاحب نصاب نہیں اور کمیٹی میں جمع کردہ رقم بھی زکاۃ کے نصاب کے برابر نہیں تو اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں۔
اور اگر کوئی شخص کمیٹی وصول کرچکاہوتو زکاۃ کی ادائیگی کے وقت جو رقم اس کے پاس موجود ہو اس مجموعی رقم میں سے اگلے ایک سال کی جتنی قسطیں ادا کرناباقی ہیں انہیں منہاکرکے بقیہ رقم پر زکاۃ دے گا۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

