بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی قضا نہیں

سوال

اگر سفرمیں تراویح کا ٹائم نکل جائے تو کیا ترا ویح کی قضا ہے؟ اور کس طرح ؟

جواب

سفر میں اگر موقع ہوتوتراویح پڑھ لینابہتر ہے ۔ اور اگر موقع نہ ہوتو تراویح کا چھوڑدینابھی جائز ہے۔لہذا اگر سفر میں وقت نہ ملااور کوئی شخص تراویح ادا نہ کرسکا تو وقت ختم ہوجانے کے بعد اب تراویح کی قضا نہیں ہے۔(کفایت المفتی 3/404،دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201094
تاریخ18-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں