بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں بیوی کے پاس جانا

سوال

روزہ کی حالت میں بیوی کے پاس کس حد تک جا سکتے ہیں؟

جواب

روزہ کی حالت میں بیوی  سے بوس کنار کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ انزال یا اپنے نفس کے بے اختیار ہو کر   جماع کرنے کا خطرہ نہ ہو،اگر خطرہ ہو تو بوس وکنار بھی مکروہ ہے۔اگر بوس وکنار کرنے سے انزال ہوگیا تو  روزہ فاسد ہو جائے گا اور اگردونوں نے رضامندی سے جماع کرلیاتو دونوں پر کفارہ لازم ہوگا، اگر بیوی پر واقعۃً جبر کرکے جماع کیا تو صرف شوہر پر کفارہ لازم ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201088
تاریخ18-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں