بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوائی سونگھنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا

سوال

ناک جب بند ہوتی ہے تو اسے کھولنے کے لیے ایک دوائی کا استعمال کیا جاتا ہے جسے سونگھنے سے ناک کھل جاتی ہے ۔ اس دوائی میں وِکس بام جیسا مزہ ہوتا ہے اور بہت تیز ہوتی ہے جو حلق تک محسوس ہوتی ہے، تو ایسی دوائی روزہ کی حالت میں استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگردوا لیکویڈ یا سفوف کی شکل میں ہو یا وکس کی طرح (نرم) ہو جسے استعمال کرنے سے اس کےاجزا یا ذرات ناک کے راستے حلق میں اتر جاتے ہوں تو اس کے استعمال سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور اگر دوا ایسی ہے کہ اسے سونگھنے سے اس کے اجزا حلق میں نہیں جاتے، صرف اس کی تیزی اور مزہ حلق میں محسوس ہوتاہے تو روزے کی حالت میں اسے سونگھنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، لیکن شدید مجبوری کے بغیر روزے میں ایسی دوا کے استعمال سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201055
تاریخ17-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں