بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر کے دوران تراویح

سوال

سفر کے دوران تراویح کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

سفر کے دوران اگر تراویح پڑھنے کا موقع ہو تو تراویح پڑھ لینی چاہیے۔اور اگر موقع نہ ہو  تو چھوڑٰنے میں کوئی حرج نہیں۔

 ''  کفایت المفتی''  میں ہے:

'' تراویح کی تاکید سفر میں نہیں رہتی موقع ہو تو پڑھ لینا بہتر ہے اور موقع نہ ہو تو ترک کردینا جائز ہے۔

'' ویأتي المسافر بالسنن إن کان فی حال أ من و قرار وإلا بأن کان في خوف و فرار لا یأتي بها، هو المختار''. (التنویرو شرحه ‘ باب صلاة المسافر ۲/۱۳۱ ط سعید ) ( کفایة المفتی ج ۳؍ ۴۰۴) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201024
تاریخ16-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں