بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسقاط حمل کی صورت میں خون کاحکم

سوال

ایک عورت کا دو ماہ کا حمل ضائع ہو گیا ہے، اس کے بعد خون آنا شروع ہوا ہے تو بتائیے کہ یہ خون حیض کا ہوگا ،نفاس کا یا استحاضہ کا ؟اور شرعی حکم نماز روزہ کے اعتبار سے کیا ہوگا؟

جواب

دو ماہ کا حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس نہیں ہے۔ باقی ماہواری ہے یا استحاضہ؟ تو دیکھا جائے گا کہ  اگر عادت کے ایا م میں آیا ہے ، یا یہ خون پاکی کے پندرہ دن گزرنے کے بعد آیا ہے اور تین دن سے زائد اوردس سے کم ہے تو حٰیض ہے ورنہ استحاضہ ہے۔استحاضہ والی عورت نماز پڑھ سکتی ہے، قرآن پاک چھوسکتی ہے، روزہ بھی رکھ سکتی ہے اور شوہر سے مباشرت بھی کرسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201020
تاریخ16-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں