بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلا عذر روزہ ترک کرنے والے کو کھلانے یا پلانے کا حکم

سوال

ماہ رمضان میں مفطر بلاعذر کو کھاناکھلانےیا پانی پلانے کاکیا حکم ہے؟

جواب

جو مکلف شخص رمضان المبارک  میں بلا عذر روزہ ترک کردےوہ سخت گناہ گار ہے،ایسے شخص کو  روزہ کے اوقات میں کھلانا یا پلانا گناہ کے کام پر تعاون ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے؛

﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [المائدة: 2]

ترجمہ: اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔ (از بیان القرآن)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201015
تاریخ16-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں