بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 نماز مغرب کا وقت مکروہ

سوال

نمازِ مغرب کا وقت کب مکروہ ہو جاتا ہے؟

جواب

مغرب کی نماز میں  تاخیرمطلقاً مکروہ ہے، اذان  کے بعد جتنی دیر میں مؤذن اذان خانہ سے  مصلی تک آئے اتنی دیر کے بعد نماز  پڑھ لینی چاہیے، اذان کے بعد دو رکعت کی مقدار تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی اور ستاروں کے ظاہر ہونے تک تاخیر کرنامکروہِ تحریمی ہے۔

''(وأول وقت المغرب إذا غربت الشمس وآخر وقتها مالم یغیب الشفق) وقال ابن الهمام رحمه الله: ولذا قلنا: إن تاخیر المغرب مطلقاً مکروه''۔
(الهدایة مع فتح القدیر ص۱۹۵ جلد۱ باب المواقیت)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908201003
تاریخ16-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں