بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری طور پر ایک شعبے میں مجاز شخص اپنا عہدہ دوسرے کو بیچ سکتا ہے؟

سوال

 قصائی   کا سرکاری  طور  پر  اجازت  حاصل ہونے کے لیے نیلام  میں شرکت  کرنا کہ وہاں جو نیلام میں کامیاب ہوگا اسی  کے لیے قانونی طور پر اجازت ہوگی،یہ شرعًا کیساہے؟آیا یہ اجارہ ہے یا بیع؟  اور جس شخص کو نیلام میں کامیاب ہو کر قانونی طور پر اجازت مل گئی ہے،اس کا دوسرے کے ہاتھ  بیچنا جائزہے یا نہ؟

جواب

اگر ایک آدمی سرکاری طور پر قصائی کے شعبہ میں کام کرنے کا مجاز ہے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ عہدہ کسی دوسرے شخص کو روپے کے عوض بیچ دے؛ کیوں کہ  یہ  حق  کی  بیع ہو گی اور  حقوقِ مجردہ  کی بیع جائز نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 518):

"و في الأشباه: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة و على هذا لايجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف."

باقی نیلامی میں شرکت کی کیا صورت ہوتی ہے، اس کی تفصیل لکھ کر بھیج کر جواب معلوم کر لیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200997
تاریخ16-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں