بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان کا گٹر صاف کرنے کی ملازمت کرنا

سوال

کیا کوئی  مسلم شخص گٹر کی صفائی ، گندے نالے کی صفائی ، ڈبیلوسی/کموڈ کی صفائی  کی جاب/ ملازمت  کر سکتا ہے؟

جواب

اسلام نے مسلمان کی عزت کا بہت خیال رکھا ہے، اس لیے مسلمان کو بھی اپنی عزت کا پورا خیال رکھنا چاہیے اور جس ملازمت میں اس کی تنقیص و تذلیل ہوتی ہو  اُسے اختیار نہیں کرنا  چاہیے۔  گٹر صاف کرنا اور اس جیسے دیگر  کاموں کی ملازمت کرنے سے مسلمان کی عزت پامال ہوتی ہے؛ لہٰذا جس جگہ مذکورہ کاموں کے لیے غیر مسلم میسر ہوں وہاں مسلمان کے لیے اس قسم کی ملازمت سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر کسی جگہ ان کاموں کے لیے غیر مسلم خاکروب میسر نہ ہو یا کوئی مسلمان مجبوری میں مذکورہ کام کرے تو اس شرط کے ساتھ مذکورہ ملازمت کی اجازت ہوگی کہ یہ ملازمت مسلمانوں کے ہاں ہو۔ اور جیسے ہی متبادل کا انتظام ہو اسے ترک کردیناچاہیے۔

جہاں تک غیر مسلم ممالک میں یا غیر مسلموں کے ہاں مسلمان کا مذکورہ ملازمت کرنے کا حکم ہے تو کسی مسلمان کے لیے غیرمسلموں کے ہاں ایسی ذلت آمیز ملازمت کرنا جائز نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 189)

'' وليس للمسلم أن يذل نفسه خصوصاً بخدمة الكافر''.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200970
تاریخ15-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں