بینک میں جمع شدہ رقم پر جو منافع آتا ہے اس کا حکم
سوال
بینک میں جمع شدہ رقم پر جو منافع آتا ہے وہ استعمال کرنا جائز ہے؟ یا لے کر کسی مستحق کو دے دیں؟
جواب
بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ہی شرعاً جائز نہیں ہے، علماء نے ضرورت کی بنا پرکرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت دی ہے؛اس لیے آپ سب سے پہلے اس سیونگ اکاؤنٹ کو ختم کروائیں ،اب تک جو اس اکاؤ نٹ سے نفع جمع ہوا وہ شرعاً سود ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر بینک سے وصول نہیں کیا تو وصول نہ کریں اگر کرلیا ہے تو ثواب کی نیت کے بغیر کسی مستحق کے حوالے کردیں-فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

