بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی قضا

سوال

سفر میں تراویح کا ٹائم نکل جا ئے تو تراویح قضا کیسے ہو گی؟

جواب

تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر تک ہے، لہذا اگر کوئی شخص وقت کے اندر تراویح نہ پڑھ سکا تو اس پرتراویح کی قضا لازم نہیں۔

واضح رہے کہ دوران سفر اگر تراویح پڑھنے کی سہولت نہ ہو تو اسے چھوڑنے کی گنجائش ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200961
تاریخ14-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں