بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محلے کی مسجد میں دوسری جماعت کا حکم

سوال

کیامحلے کی مسجد میں مسافر دوسری جماعت کروا سکتے ہیں؟

جواب

محلے کی مسجد (جہاں امام ومؤذن مقرر ہو) میں اگر باقاعدہ اذان واقامت کے ساتھ اہلِ محلہ جماعت کراچکے ہوں تو مسجد کی حدود کے اندر دوسری جماعت کرانا مکروہ تحریمی ہے، مسجدِ شرعی کی حدود سے باہر دوسری جماعت کروائی جاسکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ دو فریقوں کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے، جب واپس تشریف لائے تو مسجدِ نبوی میں جماعت ہوچکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی میں دوسری جماعت نہیں کروائی بلکہ گھر تشریف لے گئے اور اہلِ خانہ کو جمع کرکے جماعت سے نماز ادا فرمائی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200918
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں