بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعائے تراویح کا ثبوت

سوال

تراویح میں پڑھی جانے والی تسبیح تراویح کا حکم کیا ہے؟ اور اس کی اصل کیا ہے؟ کیا ہر چار  رکعات کے بعد اس تسبیح کا پرھنا افضل ہے؟ یا کچھ اور کلمات بھی پڑھے جا سکتے ہیں؟

جواب

تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد جو دعا مشہور ہے وہ کسی روایت اور حدیث میں ایک ساتھ نہیں ملتی ،البتہ ٹکڑے ٹکڑے میں مل جاتی ہےجوڑنے سے یہی دعا بن جاتی ہے۔ہر چار رکعت کے بعد تھوڑی دیر بیٹھنا مستحب ہے اور اس دوران اس دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ،تسبیح و تہلیل، درود شریف اور دعائے ماثور وغیرہ کچھ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200917
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں