بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام اجزاء والی اشیاء غیرمسلم کو فروخت کرنا

سوال

عبد اللہ نے کوریا میں مسلمانوں کی سہولت کے لیے دوکان کھولی ہے ،  چوں کہ یہاں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے، کیا عبد للہ کے لیے غیر مسلموں کو ایسی اشیاء کی فروخت جائز ہے اور اس کا منافع حلال ہے جن میں حرام اشیاء کسی نہ کسی درجے میں موجود ہوں، جیسا کہ دہی ، چپس وغیرہ؟

جواب

کسی مسلمان کے لیے حرام اشیاء یا حرام اجزاء پر مشتمل اشیاء فروخت کرنا جائز نہیں خواہ خریدار غیر مسلم ہو، اور اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200913
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں