بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کے خرچ کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر پیسے اٹھانا

سوال

اگر شوہر گھر کے خرچ کے لیے پورے پیسے نۂ دے جب کہ  اس کی آمدن اچھی ہے اور پھر بھی نہ دے تو کیا اس سے بغیر پوچھے پیسے نکالنا ٹھیک ہے؟ چوری تو نہیں کہلائے گی؟ اور ایسے ہی شوہر پیسے رکھ کر بھول جاۓ تو وہ بھی ایسے ہی استعمال کر سکتے ہیں بتائے بغیر؟

جواب

اگر شوہر باوجود صاحبِ وسعت ہونے کے  گھر کے ضروری اخراجات کے لیے پورے پیسے نہ دے، بلکہ بخل سے کام لے  تو بیوی کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اسراف سے بچتے ہوئے میانہ روی سے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے جتنے پیسوں کی ضرورت ہو اتنے پیسے شوہر سے پوچھے بغیر نکال لے، یہ چوری نہیں کہلائے گی، لیکن شوہر جو پیسے کسی جگہ رکھ کر بھول جائے تو وہ شوہر ہی کی ملکیت ہیں، اس کی اجازت کے بغیر ایسے ہی استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200910
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں