بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلام سرور یعنی بندہ کی وفات کے بعد میری اولاد میں میراث کیسے تقسیم ہوگی، جب کہ بندہ کی ایک زوجہ، سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، اور بندہ کی ملکیت میں 27 مرلہ زمین ہے. میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

اگر کسی کی  وفات کے وقت یہی ورثاء موجود ہوں جو آپ نے لکھے ہیں تو  کل جائیداد  کے 144 حصے کرکےزوجہ کو 18 حصے اور ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200903
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں