بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں عورت کی امامت کا حکم

سوال

تراویح یا فرض نماز میں عورت عورتوں کی جماعت کی امامت کراسکتی ہے؟

جواب

عورتوں کی جماعت اس طرح کہ عورت ہی امام ہو مکروہ ہے خواہ فرض نماز ہویاتراویح۔اور اگر تراویح کا اہتمام اس طرح کیاجائے کہ   دیگر گھروں سے بھی عورتیں آکر اس عورت کے پیچھے تراویح پڑھیں تو اس میں اور بھی بہت سے مفاسد و خرابیاں ہیں؛  اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ عورتوں کے لیے حکم یہی ہے کہ وہ تنہا تنہا تراویح کی نماز ادا کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200889
تاریخ13-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں