بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تلاوت کے دوران اذان کا جواب دیا جائے گا؟

سوال

اذان کے وقت تلاوت کرسکتے ہیں؟

جواب

اذان سن کر مسجد کی طرف جانا اور عملی طور پر اذان کا جواب دینا واجب ہے، اور زبان سے اذان کا جواب دینا مستحب ہے، لہذا اگر کوئی شخص تلاوتِ کلام مجید میں مشغول ہو تو افضل یہ ہے کہ اذان کے لیے تلاوت موقوف کر دے اور اگر مسجد میں نہیں ہے تو زبانی جواب دینے کے ساتھ ساتھ مسجد کی طرف عملی طور پر جانے میں جلدی کرے۔ جیسا کہ ''تنویر الابصار مع الدر المختار'' میں ہے:

''(فيقطع قراءة القرآن....، و أما عندنا فيقطع و يجيب بلسانه مطلقاً''۔ ( باب الاذان، ١ / ٣٩٨- ٣٩٩ ط: سعيد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200871
تاریخ12-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں