مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیردے
سوال
اگرمسبوق امام کےساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیردے تو نماز میں کیا فرق پڑے گا؟
جواب
مسبوق کو امام کے سجدہ سہو تو کرنا چاہیے، لیکن سجدہ سہو کے وقت سلام نہیں پھیرنا چاہیے۔ البتہ مسبوق اگربھول سے امام کے ساتھ سجدۂ سہو پر سلام پھیر دے، تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ سجدۂ سہو بھی امام کی نماز ہی میں داخل ہے۔ اور اگر مسبوق نے امام کے ساتھ جان کر سلام پھیردیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908200857
تاریخ12-05-2018

