بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک شہر میں رہائش ہو اور دوسرے میں مکان کرایہ پر دیا ہو تو قصر نماز کا کیا حکم ہوگا؟

سوال

ایک آدمی اسلام آباد میں بھی ایک مکان کا مالک ہے اور ایک گھر کراچی میں بھی اس کی ملکیت میں ہے، لیکن کراچی والا گھر کرایہ پر دیا ہے تو جب یہ مالک جب کراچی جائے گا وہاں قصر نماز پڑھے گا یا اتمام کرے گا؟

جواب

اگر اس شخص کے گھر والے اسلام آباد میں ہیں اورمستقل رہائش بھی وہیں ہے کراچی میں صرف ایک مکان لےکر کرایہ پر دیا ہوا ہے اور کوئی غرض کراچی سے وابستہ نہیں ہے تو ایسی صورت میں یہ شخص اگر پندرہ دن سے کم کے لیے کراچی آئے گا  تو مسافر شمار ہوگا اور قصر نماز ادا کرے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200854
تاریخ12-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں