بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہنڈی کے معاملہ پر ایک اشکال

سوال

ہنڈی کے ذریعے  پیسہ بھیجنے کے متعلق سوال جواب پڑھا،  لیکن ایک اشکال ہے، وہ یہ کہ "احد المتعاقدین" کا قبضہ نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ رابطہ اکثر فون پر ہوتا ہے او ر جگہ کی دوری کی وجہ سے پیسہ دو چار دن بعد قبض کر لیتے ہیں تو آیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

جواب

ہنڈی کا معاملہ "بیعِ صرف" کا نہیں ہے کہ اس میں جانبین کا مجلسِ عقد میں قبضہ ضروری ہو، بلکہ ہنڈی بیع ہے ہی نہیں، ہنڈی کا معاملہ شرعاً قرض ہے، اور اس پر جو الگ سے طے شدہ اجرت لی جاتی ہے وہ اجارہ ہے، اور یہ دونوں الگ الگ معاملہ ہنڈی میں انجام پاتے ہیں، اور قرض میں جانبین سے قبضہ ضروری نہیں ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته (5/ 331):
"ويتم التعبير عن هذا القرض بتسليم المقرض وصلاً (وثيقة)، يثبت حقه في بدل القرض، ويكون المقترض وهو الصراف أو البنك ضامناً لبدل القرض، ولكنه يأخذ أجراً أو عمولةً على تسليم المبلغ في بلد آخر مقابل مصاريف الشيك أوأجرة البريد أو البرقية أو التلكس فقط؛ لتكليف وكيل الصراف بالوفاء أو السداد. وهذان العقدان: الصرف والتحويل القائم على القرض هما الطريقان لتصحيح هذا التعامل، فيما يبدو لي".
فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200851
تاریخ12-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں