بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹھ کر تراویح پڑھنا

سوال

تراویح کی کچھ رکعتیں بیٹھ کر اور کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

عذر کی بنا پر تراویح کی کچھ رکعات کھڑے ہوکر اور کچھ رکعات بیٹھ کر پڑھنا درست ہے، بلاعذر بیٹھ کر تراویح کی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار (2 / 48) ط: سعيد

'' ( وتكره قاعداً )؛ لزيادة تأكدها، حتى قيل: لا تصح ( مع القدرة على القيام )، كما يكره تأخير القيام إلى ركوع الإمام للتشبه بالمنافقين''۔

و في الرد: '' (قوله: وتكره قاعداً ) أي تنزيها لما في الحلية وغيرها من أنهم اتفقوا على أنه لا يستحب ذلك بلا عذر؛ لأنه خلاف المتوارث عن السلف''۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200847
تاریخ11-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں