بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر دف یا ڈھول بجانا

سوال

کیا شادی بیاہ میں دف ، یا ڈھول وغیرہ بجانا جائز ہے؟

جواب

شادی کے موقع پر دف کے استعمال کی گنجائش ہے، جیساکہ ''فتاوی شامی'' میں ہے:

''(قَوْلُهُ: وَالْمَلَاهِي) كَالْمَزَامِيرِ وَالطَّبْلِ، وَإِذَا كَانَ الطَّبْلُ لِغَيْرِ اللَّهْوِ فَلَا بَأْسِ بِهِ، كَطَبْلِ الْغُزَاةِ وَالْعُرْسِ، لِمَا فِي الْأَجْنَاسِ: وَلَا بَأْسَ أَنْ يَكُونَ لَيْلَةَ الْعُرْسِ دُفٌّ يُضْرَبُ بِهِ لِيُعْلِنَ بِهِ النِّكَاحَ''۔ (٦/ ٥٥)

البتہ موجودہ دور میں جو آلہ دف کے نام سے معروف ہے جس میں اسٹیل کی چھوٹی چھوٹی پلیٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں جس سے ایک خاص قسم کے ساز کی آواز پیدا ہوتی ہے، اس کے استعمال کی شرعاً اجازت نہیں، نیز ڈھول یا دیگر آلاتِ موسیقی کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200846
تاریخ11-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں