تو مجھ پر بہن جیسی ہے، کہنے کا حکم
سوال
شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ "میرے کپڑے نہ دھوئیں ،اگر دھوئے تو مجھ پر بہن جیسی ہے"، اب یہاں پر ظہار کے مسئلہ سے بچنے کے لیے کوئی حل ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ "میرے کپڑے نہ دھو، اگر دھوئے تو مجھ پر بہن جیسی ہے" اور اس سے اس کی نیت ظہار کی ہو اور بیوی کپڑے دھو لے توظہار ہوجائے گا، اگر اس سے اس کی نیت ظہار کی نہ ہو مگر اس کے عرف میں یہ جملہ طلاق کے لیے بولاجاتا ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی. فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

