بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تو مجھ پر بہن جیسی ہے، کہنے کا حکم

سوال

شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ "میرے کپڑے نہ دھوئیں ،اگر دھوئے تو مجھ پر بہن جیسی ہے"، اب یہاں پر ظہار کے مسئلہ سے بچنے کے لیے کوئی حل ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ "میرے کپڑے نہ دھو، اگر دھوئے تو مجھ پر بہن جیسی ہے" اور اس سے اس کی نیت ظہار کی ہو اور بیوی کپڑے دھو لے توظہار ہوجائے گا، اگر اس سے اس کی نیت  ظہار کی نہ ہو مگر اس کے عرف میں یہ جملہ طلاق کے لیے بولاجاتا ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200832
تاریخ11-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں