بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے مستقبل کے لیے رکھے ہوئے پلاٹ پر زکات کا حکم

سوال

ایک آدمی نے قرض لے رکھا  ہے اور ساتھ ہی پلاٹ بھی لے رکھا ہے بچوں کے مستقبل کے لیے،  کیا پلاٹ پر زکاۃ ہو گی؟ اور  کیا قرض کی رقم منہا  ہو گی زکاۃکے لیے؟

جواب

          اگر پلاٹ  اس نیت سے لیا تھا کہ  بچوں کی شادی کے وقت ان کو دے دوں گا  یا اس کو فرو  خت کرکے بچوں کی شادی کراؤں گا تو اس پلاٹ پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی ، اور قرض کی رقم نکالنے کے بعد جتنی رقم بچے اس پر  زکاۃ لازم ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200821
تاریخ11-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں