بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق معلق کی ایک صورت

سوال

عبد اللہ نام ہے، میرا مسئلہ طلاق کے متعلق ہے, آ ج سے قریباً ڈیڑھ سال قبل سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا, بیوی سے دور ہونے کی وجہ سے ایک شدید نفسانی خواہش میں مبتلاتھا, جسے عربی میں( ناکح الید) کہتے ہیں، میں اس سے نکلنا چاہتا تھا، جوان تھا، کنٹرول نہیں تھا، اپنے آپ پر اب اس سے نکلنے کی صورت یہ اختیار کی کہ اپنے آپ کو قسم میں مقید کیا کہ اب اگر مذکورہ عمل کروں تو میری بیوی پر تین طلاق، پھر کچھ دن بعد پھر سے اس عمل میں گرفتار تھا، اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟  بیوی کو اس بات کا پتا نہیں ہے!

جواب

ذکرکردہ صورتِ حال میں آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اب ساتھ رہنا جائز نہیں، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہوگا۔ بیوی کو اس کی اطلاع کردیں، اگر نہیں بتائیں گے اور حسبِ سابق تعلق برقرار رکھیں گے تو شدید گناہ گار ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200796
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں