بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حائضہ کا دیر تک سوتے رہنا بے برکتی کا باعث نہیں

سوال

کہتے ہیں کہ صبح صادق سے طلوعِ آفتاب تک سونا رزق میں بے برکتی کا سبب ہے۔اس وقت میں جاگنا چاہیےاور ذکر و تلاوت میں لگنا چاہیے، اب سوال یہ ہےکہ جب عورت کو حیض کے ایام چل رہےہوں تو کیا وہ بھی اس بات کی پابند ہے کہ اس وقت میں اٹھنے کا اہتمام کرےاور ذکر ودعا میں لگے ؟اور اگر وہ نہ اٹھے کہ نماز تو پڑھنی نہیں، اٹھنے کا کیا فائدہ؟ تو کیا اس کے عمل سے بھی رزق میں بے برکتی ہوگی؟

جواب

صبح کے اوقات میں اللہ ربالعزت نے اس امت کےلیے برکت رکھی ہے؛ لہذا اس وقت میں سوتے رہنا یہ اس برکت سے محرومی کا سبب ہے، ایسی عورت جس پر اس کے ایامِ مخصوصہ کی وجہ سے نماز فرض نہ ہو  اس کا بھی صبح صادق کے بعد سوتے رہنا مناسب نہیں، اس وقت میں ذکر اور دعا کرے، نیز ان ایام میں بھی نمازوں کے اوقات کا خیال رکھنا چاہیے؛ تاکہ عادت خراب نہ ہو اور گھر کے دیگر افراد بھی اس کیفیت سے واقف نہ ہوں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200795
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں