بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے اور لڑکی کا ان کی رضامندی کے بغیر نکاح کرانے کاحکم

سوال

 لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے اور پھر بھی ان کے بڑے ان کی زبردستی شادی کرانا چاہتےہیں تو شریعت میں یہ شادی جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی پر نکاح کے معاملہ میں جبر اور زبردستی کرنا درست نہیں، والدین کو چاہیے کہ نکاح کے معاملہ میں اپنے بچوں کی پسند کی رعایت کریں، لیکن اولاد کو بھی چاہیے کہ والدین کو اپنا خیرخواہ سمجھتے ہوئے ان کی پسند کو  اپنی پسند پر ترجیح دیں ؛ اس لیے کہ عموماً والدین اور بزرگوں کے طے کردہ رشتے آگے چل کر خوش گوار ثابت ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ ایک چیز فی الحال ناپسند ہو لیکن بعد میں وہ خیر اور محبت کا ذریعہ بن جائے، اور جو رشتے وقتی جذبات سے مغلوب ہوکر کیے جاتے ہیں تجربہ شاہد ہے کہ عموماً وہ ناپائیدار ہوتے ہیں، وقتی پسند بعد میں ناپسندیدگی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

بہر حال اگر والدین کے اصرار پر  لڑکے اور لڑکی نے زبانی طور پر اجازت دے دی اور ایجاب قبول کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200792
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں