بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا وعظ وبیان یا باہر جانے کا حکم

سوال

خواتین عالمہ کا مختلف جگہوں پر جا کر بیان کرنا شرعاً کیسا ہے؟

کیا اسلام میں عورتوں کی کوئی مثال ملتی ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کے لیے سفر کریں، اور عورتوں کو جمع کر کے وعظ و نصیحت کریں؟ 

جواب

(۱) صرف خواتین کے اجتماع میں کسی مستند عالمہ خاتون کا بیان کرنا درست ہے بشرطیکہ بیان کی آواز نامحرم لوگوں تک نہ پہنچےاور مستند دینی معلومات پر مشتمل ہو۔

(۲)مستورات کا تبلیغی جماعتوں  کی شکل میں نکلنے کی  قرن اول سے لے کر تبلیغی جماعت کے اولین بزرگوں تک کوئی شرعی نظیر نہیں ملتی ، البتہ محلے کی عورتیں اگر محلے کے کسی گھر میں جمع ہو جائیں اور کوئی مستند عالم یابزرگ وہاں آکر ان سے ہفتہ واریا ماہ وار اصلاحی وتبلیغی بیان کرلیاکریں تویہ طریقہ سنت کے عین مطابق ہوگا۔ واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200791
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں