بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی، گھر اور زندگی کا انشورنس

سوال

جانی اور گا ڑ ی، گھر کی انشو رنس کے متعلق جا معہ بنوری ٹا ؤ ن کا مؤ قف کیا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ انشورنس (بیمہ) پالیسی کے تمام مروجہ طریقے سود اور قمار (جوا) پر مشتمل ہیں اور  سود  اور  قمار کا لین دین  شریعت  مطہرہ  میں  بنصِّ قرآنی حرام ہے، لہٰذا جامعہ کا فتویٰ یہ ہے کہ کسی بھی انشورنس کمپنی کے ساتھ کسی بھی قسم کی انشورنس/ بیمہ کا کوئی معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200784
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں