بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیر خوار بچے کی قے کا حکم

سوال

شیر خواربچہ جو  ماں کا یا ڈبے کا دودھ پیتا ہو ،دودھ پینے کے بعد اکثر اوقات بچہ دودھ قے کردیتا ہے،کیا بچے کی قے کا حکم بڑوں کی قے کی طرح ہے،اگر کپڑوں پر لگ جائےتو ایسے کپڑوں میں نماز ہوجائے گی؟

جواب

شیرخوار بچہ دودھ پیتے ہوئے یا دودھ پینے کے بعد قے کردے ،اگر قے منہ بھر کر ہو تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے کی مانند ہوگا،جسم یا کپڑےپر لگ جائے اور مقدار میں ایک درہم یا ایک درہم سے زائدہو تو اس کا پاک کرنا ضروری ہے،پاک کیے بغیر ان کپڑوں میں نماز نہ ہوگی۔اگر قے منہ بھر کر نہ ہو خواہ بالغ کی ہو یا نابالغ کی تو وہ ناپاک نہیں ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (1 / 138)دارالفکر،بیروت
'' وهو نجس مغلظ ولو من صبي ساعة ارتضاعه، هو الصحيح ؛ لمخالطة النجاسة'' ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200781
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں