بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فلاحی کاموں کا اجر امتِ مسلمہ کو پہنچانا

سوال

فلاحی کاموں میں جو رقم خرچ ہوتی ہے، اس رقم کا کچھ حصہ اُمتِ محمدیہﷺ کے نام کی نیت کر کے لگا سکتے ہیں؛ تاکہ وہ بھی اس صدقہ جاریہ کا حصہ بن سکیں۔راہ نمائی فرمائیں!

جواب

جی ہاں! ایسا کرنا درست اور باعثِ اجر و ثواب ہے، بلکہ کسی بھی نیک کام کا اجر تمام امتِ محمدیہ ﷺ کو پہنچانا درست ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی تھی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200775
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں