بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں زلفوں کی حقیقت

سوال

اسلام میں زلفوں کی حقیقت کیا ہے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کے متعلق مختلف روایتیں ہیں، بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ کے بال مبارک نصف کان تک تھے ، بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ کے بال کان کی لو تک تھے اور بعض میں  آتا ہے کہ مونڈھوں تک تھے، یہ تمام روایتیں مختلف احوال اور زمانوں پر محمول ہیں۔ بہرحال اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی نیت سے مذکورہ حدود کے اندر بال بڑھاتا ہےاور بالوں کا حق ادا کرتاہے، یعنی ان میں تیل ڈالنے، دھونے، کنگھی کرنے اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھتاہے تو ثواب کا مستحق ہو  گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200760
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں