بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نومولود کے کان میں موبائل سے اذان

سوال

نومولود بچے کے کان میں موبائل سے محفوظ شدہ اذان لگاسکتے  ہیں یا نہیں ؟

جواب

احادیث میں نومولود بچے کے کان میں اذان  دینے کا جو  حکم دیا گیا ہے وہ   آداب کے ساتھ اسی صورت میں  پورا ہوگا جب کہ براہِ راست  بچے کے کان میں اذان پڑھی جائے ، اگر کوئی اذان پڑھنے والا شخص نوزائیدہ بچے کے پاس نہ ہو  جو خود براہِ راست معہود طریقے پر اذان پڑھ دے  یا بچہ  شفا خانہ وغیرہ میں کسی ایسی جگہ پر ہو  کہ اس کے پاس اذان  پڑھنے کے لیے نہ جاسکتے ہوں تو مجبوری میں موبائل فون پر کال کرکے کان میں اذان واقامت پڑھ دی تو گنجائش ہوگی، اذان واقامت ہوجائے گی، موبائل میں محفوظ اذان  کا سنادینا کافی نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200755
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں