بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدنی والوں سے مدرسہ کےلیے چندہ لینا

سوال

میراتعلق ایک دینی مدرسہ سے ہے، بحثیت مدیر مسئلہ یہ  معلوم کرناہے کہ ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے بعض افراد کی کمائی حرام کی ہوتی ہے، وہ طلباء کےکھانے کے لیے کچھ رقم دیتے ہیں،  چوں کہ وہ محلے کے افراد ہوتے ہیں، ان کو منع کرنے سے مدرسہ اور ہمارے لیے بہت سی مشکلات پیداہوتی ہیں، اور ہم سے بدظن ہوتے ہیں، ایسی صورت میں رقم لینا جائز ہے یانہیں؟  اگر جائز ہے تو رقم کیسے استعمال کریں؟ اگر جائز نہیں تو اس کا حل بتادیاجائے!

جواب

جن لوگوں کے بارے میں یقینی علم ہے کہ ان کی آمدنی حرام ہے، ان سے  چندہ نہ لیا جائے، ایسے لوگوں کو  مصلحت کے ساتھ مسئلہ بتایاجائے اور حلال کمائی کی ترغیب دی جائے، ان شاء اللہ مدرسے کے لیے مشکلات بھی نہیں ہوں گی اور ان لوگوں کے دلوں کو بھی اللہ تبارک وتعالیٰ صاف رکھیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200746
تاریخ10-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں