کرائے پر دیے ہوئے مکانات اور خالی بند دکان پر زکاۃ کا حکم
سوال
زید کے پاس جائیداد میں ایک دکان اور دو مکانات ہیں۔ مکانات کرائے پر دے رکھے ہیں جب کہ دکان خالی بند پڑی ہے ۔ دکان اور مکانات کا نصابِ زکاۃ کیا ہوگا؟
جواب
زید کے مذکورہ مکانات اور دکان کی قیمت پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی، البتہ مکانات کا جو کرایہ آتا ہے وہ رقم اگر محفوظ ہو اور نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچ جائے یا دیگر اموالِ زکاۃ کے ساتھ مل کر نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس رقم پر ڈھائی فیصد زکاۃ واجب ہوگی۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

