حالتِ حمل میں بیوی سے ہمبستری
سوال
حاملہ بیوی سے ہمبستری کر نےکی مدت کیا ہے؟
جواب
حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہمبستری کرنا شرعاً جائز ہے،بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ حالتِ حمل میں ہمبستری کرنے سے بچے کے بال بڑھتے ہیں اور اس کی بینائی اور سماعت بھی تیز ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی دِین دار و ماہر طبیب یا ڈاکٹر کسی عذر کی بنا پر احتیاط کا مشورہ دے تو اس کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔ " الدر المختار مع ردالمحتار" میں ہے:
'' لئلا يسقي ماء ه زرع غيره إذ الشعر ينبت منه.
(قوله: إذ الشعر ينبت منه) المراد ازدياد نبات الشعر، لا أصل نباته، ولذا قال في التبيين والكافي : لأن به يزداد سمعه وبصره حدة كما جاء في الخبر. اهـ.
وهذه حكمته، وإلا فالمراد المنع من الوطء ؛ لما في الفتح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماء ه زرع غيره» يعني إتيان الحبلى۔ رواه أبو داود والترمذي وقال :حديث حسن. اهـ. شرنبلالية۔'' (الدر المختار مع رد المحتار (3/ 49) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

