کرایہ پر دینے کے لیے خریدی عمارت پر زکاۃ
سوال
اگر کوئی جگہ کرائے کے حصول کے لیے خریدی جائے تاکہ اس سے آمدن ہو تو اس بلڈنگ کی زکاۃ کس طرح ادا کی جائی گی؟
جواب
جو بلڈنگ کرایہ کے لیے ہے، اس کے کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم پر زکاۃ ہوگی، اصل عمارت کی مالیت پرنہیں ، یعنی کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بقدر نصاب ہو یا دیگر مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائےاور اس نصاب پر سال گزر جائے تو زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143908200729
تاریخ09-05-2018

