بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشکوک آمدنی والے کا تحفہ وصول کرنا

سوال

ایک آدمی محکمہ پٹوار خانہ میں چوکیدار ہے جہاں محکمہ کے افسروں کا آنا جانا رہتا ہے اور وہ اس آدمی کو غریب  آدمی سمجھ کر چائے پانی یا ایزی لوڈ کے نام پر  کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں جب کہ ان کی آمدنی کا کچھ  پتا نہیں ہوتا تو  اور نہ ان کی آمدنی میں اس چوکیدار کا کوئی عمل دخل ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس کے لیے ان افسروں کی جانب سے دی گئی رقم لینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر افسروں کی آمدنی کے بارے میں محض شک ہے ، کوئی ثبوت نہیں ہے تو ان کی جانب سے ہدیہ وصول کرنا جائز ہے، مسلمانوں کو بے بنیاد گمان قائم کرنے، شک کرنے اور تجسس سے منع کیا گیاہے۔ 

البتہ اگر ان کی کل یا اکثر آمدن حرام ہونے کا یقین ہو اور مذکورہ چوکیدار مستحقِ زکات نہ ہو تو اس صورت میں مذکورہ رقم اس کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ یہ رقم کسی مستحق کو دینی ہوگی اور اگر وہ خود حقیقت میں مستحق ہو تو اس صورت میں مذکورہ شخص یہ رقم خود استعمال کر سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200724
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں