بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں لڑکی کے حقیقی والد کے نام کی بجائے ماموں کا نام درج کرنا

سوال

زید کا  رشتہ فاطمہ سے ہورہا ہے, فاطمہ اپنے ماموں کے پاس رہتی ہے اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے, ماموں اس کے والد کی جگہ اپنا نام لکھتے ہیں، والد کا نام نہیں بتارہے، یہاں تک کہ نکاح فارم میں بھی یہی شرط رکھ رہے ہیں ؛کیوں کہ لڑکی کی والدہ کا انتقال اس کے والد کی وجہ سے ہوا۔اب کیا اس طرح کرنے سے نکاح ہوجائے گا اور اگر ہو جائے گا تو گناہ ہو گا کہ نہیں؟

جواب

فاطمہ کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کے نام کی بجائے ماموں کا نام درج کرنادرست نہیں،یہ نسب میں تبدیلی ہے جوکہ شرعاًگناہ کبیرہ ہے۔ماموں کوفاطمہ کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کی بجائے اپنے نام کے درج کرانے پر اصرار نہیں کرناچاہیے، بلکہ فاطمہ کے حقیقی والد کے نام کا ہی اندراج کروانا چاہیے۔تاہم اگر لڑکی خود نکاح کی مجلس میں موجود ہوتو ولدیت کی تبدیلی کے باوجودنکاح ہوجائے گا۔اور اگرلڑکی مجلس نکاح میں موجود نہ ہو اور والد کی جگہ ماموں کانام لیاجائے تو نکاح نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143908200720
تاریخ09-05-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں